٭علیم صبا نویدی(چنئی)

٭علیم صبا نویدی(چنئی)

’’ادبی محاذ ‘‘جولائی تا ستمبرملا ‘شکریہ۔ادبی محاذ کے اداریے ’’محاذ اول‘‘ میں بعنوان’’جنھیں ناز ہے ہند پر‘‘ میں قاضی مشتاق احمد نے لسانی تناظر میں نریندر مودی سرکار کے حوالے سے ہندی زبان کو لازمی قرار دئے جانے کے حال احوال کا مفصل احاطہ کیا ہے جس کا کینوس برٹش انڈیا سے لے کر موجودہ مودی سرکاری والے بھارت تک ہے۔
آپ کا کہنا بر حق ہے کہ ہندی زبان کو لازم و ملزوم قرار دئے جانے کے سرکاری اعلانات کا جہاں تک میرا تجزیہ ہے شمال تک ہی محدود ہے ۔تمل ناڈ،کرناٹک، اور کیرالہ میں ہندی کے خلاف شدت سے مظاہرے ہوتے رہے  ہیں، بالخصوص تمل ناڈو میں آج بھی اس کا سلسلہ جاری ہے ۔ لسانی موضوع سے ہٹ کر آپ نے سترھویں لوک سبھا کے نو منتخب ممبران کی جانب اپنے قلم کو موڑلیا اور اس حقیقت کو واضح کیا کہ پارلیمنٹ ایک منی دھرم سبھا کی صورت اختیار کر گئی ہے ۔ جہاں تک ہندی کے تعلق سے میرا تجزیہ ہے کہ آج کی اختیار شدہ ہندی وہ سنسکرت آمیز ہندی نہیں رہی جو کبھی ہندی پرچار سبھاؤں میں بولی،پڑھی اور لکھی جاتی تھی بلکہ آج کی ہندی اردو کے لسانی پیکر کے ایک تہائی حصہ میں ڈھل چکی ہے۔ سماچاروں ،فلموں اور ٹی وی سیرییلوں میں ہندی شبدوں کی جگہ اردو الفاظ نے اپنا روپ رنگ اختیار کر لیا ہے۔ یہ کہا جایے تو مبالغہ نہ ہو گا کہ آج بولی جانے والی زبان نہ خالص ہندی ہے اور نہ اردو۔ میر ؔو غالبؔ نے اس زبان کو ہندی ہی کہا ہے۔ 
الحاصل تبصرہ میںآپ نے آنند نارائن ملّا کے ایک شعر کے ساتھ اپنے اداریے کا اختتام کیا ہے ۔اس شعرکو یوں ترمیم کرلیں تو زیادہ بہتر ہے:
ہندو بنا دیا اسے مسلم بنا دیا۔اک صلح کا پیام تھی اردو زباں کبھی 
اُمید ہے آپ بہ ہمہ وجوہ اچھے ہوں گے۔ 

Post a Comment

0 Comments