نام کتاب۔شہرِ ادب (مضامین)
مصنف۔الف انصاری مبصر۔عبد المتین جامیؔ
زیر نظر کتاب مشہور و معروف محقق الف انصاری صاحب کے چند تعارفی اور محققانہ نیز تنقیدی مضامین کا مجموعہ ہے۔ابتدا میںموصوف کے فکر وفن پر چندتہنیتی منظومات بھی شامل ہیںجو کمتر عظیم آبادی اور خواجہ مظفر مینائی کے زورِ قلم کا نتیجہ ہیں ۔ علاوہ ازیں اپنے پیش لفظ کے علاوہ مختلف صاحبانِ قلم و قرطاس پر ۱۷؍ مضامین شامل کئے ہیںجو کہ پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ان کی تحریر میں اس قدر روانی ہے کہ کوئی بھی قاری شروع سے اخیر تک پڑھنے کو مجبور ہوجاتا ہے۔ موصوف کی اب تک تقریباً ۱۵؍ تصانیف منظر عام پر آچکی ہیں۔ تعجب خیز امر یہ ہے کہ انھوں نے کھیل‘ فلم‘شاعری اور ادب کی مشہور شخصیات کو اردو دنیاسے متعارف کرانے کی اس قدر مخلصانہ کوشش کی ہے کہ اس سلسلے میں غالباً دوسرا کوئی ان کے سامنے کھڑا نہیں ہوسکتا۔ وہ صر ف کسی کے فن پر ہی نظر نہیں رکھتے ہیںبلکہ فنکار کی ذات کے اندر بھی جھانک کر دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔لہٰذا فن کے ساتھ فن کار کی شخصیت بھی کھل کر ہمارے سامنے آجاتی ہے۔
یوں تو انھوں نے شہر کلکتہ نیز بنگالہ کے کئی ادباء و شعرا کو اپنی تحقیق کا موضوع بنایا ہے‘ان کی ادبی خدمات کا محاسبہ بھی فن کارانہ چابکدستی سے کیا ہے۔ڈاکٹر مظفر حنفی اردو دنیا کا ایک بڑا نام ہے۔الف انصاری نے ڈاکٹر مظفر حنفی سے اپنی نجی تعلقات نیز ان کی اخلاقی بلندی سے بھی قارئین کو متعارف کرانے کی کوشش کی ہے۔حالانکہ اس کتاب میں چند گمنام شعرا و ادباء کا تذکرہ بھی شامل ہے لیکن ان کے مضمون کے مطالعے سے قارئین کی ادبی و شعری معلومات میں خاصا اضافہ ہوتا ہے۔یوں بھی قبل ازیں ۲۰۰۶ء میں ’’شعرائے بنگالہ‘‘کے نام سے ۷۰۴؍ صفحات پہ مشتمل ایک کتاب پہلے ہی شائع ہو کر ادبی شخصیات سے کافی پذیرائی حاصل کرچکی ہے۔’’شاعراتِ بنگالہ‘‘(۲۸۴؍صفحات) بھی ۲۰۰۱ء میں شائع ہوئی جس سے بنگال کی شاعرات سے اردو کے قارئین متعارف ہوئے۔موجودہ کتاب’’شہر ادب‘‘میں غالباً باقی رہ گئے چند ادیب و شاعر کو شامل کیا گیا ہے۔یہ بات بلا مبالغہ کہی جاسکتی ہے کہ ڈاکٹر الف انصاری نے نقد وتحقیق کے باب میں اپنا نام تاریخِ ادب میں محفوظ کر لیا ہے۔ان کی یہ گراں قدر خدمات مستقبل کے محققین کے لئے قیمتی سرمایہ ثابت ہو ں گی۔ میں کمتر عظیم آبادی کی منظوم تقریظ کے دو بند یہاں سپرد قرطاس کر رہا ہوں۔
آگئی میرے قلم کی رو میں اس کی ہر کتاب۔جس کی ساری ہی کتابوں کو میسّر ہے شباب
پائے ہیں ایوارڈ کتنے یہ الف دیں گے حساب۔اپنے مقصد میں یقینا وہ ہوئے ہیں کامیاب
فکر کی پرواز پر ایک کیف سا چھاتا گیا ۔دل میں ایک ہلچل ہوئی پھر دل نے برجستہ کہا
اے الف انصاری تیری آگہی کو ہے سلام۔اے الف انصاری تیری آشتی کو ہے سلام
اے الف انصاری تیری سادگی کو ہے سلام۔اے الف انصاری تیری دوستی کو ہے سلام
تونے اپنے نام کا ہونٹوں پہ چرچا لادیا
تو نے ادبی کاوشوں کو راستہ دکھلادیا
امید ہے کہ موصوف کی سابقہ تصنیفات کی طرح اس کی بھی پذیرائی کی جائے گی۔ قیمت ۱۵۰؍ روپے ہے اور ملنے کا پتہ:24/Aقصائی پاڑہ۔واجد علی شاہ روڈ۔پوسٹ گارڈن ریچ۔کولکاتا۔24 ۔
0 Comments