نام ِ کتاب۔ مشاہیر کے خطوط
مبصر۔ علیم صبا نویدی
ڈاکٹر رؤف خیر اردو ادب میں ایک خاص مقام اور مرتبہ کے مالک ہیں بالخصوص موصوف کے مختلف موضوعات پر مضامین آئے دن ہندوستان کے مقتدر رسالوں اور اخباروں میں ادبی صفحات کی زینت بنتے رہے ہیں۔ایسا کوئی ہفتہ یا مہینہ نہیں گزرا ہوگا کہ انھوں نے کچھ نہ لکھا ہو‘ ایسی زود نویسی دکن کے مشاہیر میں کم ہی دکھائی دیتی ہے۔جتنے موضوعات پر رؤف نے قلم فرسائی کی ہے اس میں بالخصوص ان کے تنقیدی مضامین اور مشاہیر کے خطوط کے علاوہ ادیبوں اور شعراء کے ایسے تاریک گوشے جو بھی منصّہ شہود پر آئے انھیں بھی وہ بڑی دلکشی اور دل آرائی کے ساتھ بے کم و کاست اپنے مخصوص اور تیکھے طرزِ انداز میں رقم کرتے ہیں ۔مثلاً‘شادؔ عارفی سے معاوضے طلبی میں تکبر اور سودے بازی‘ ڈپٹی نظیر احمد کی خطوط کے ذریعے اپنے فرزند ارجمند کی تربیت اور پرداخت‘عزیز احمد کا با وجودبا ثروت ہونے کے مدیروں سے اپنی تخلیقات کی قیمت وصول کرنا‘پرکاش فکر ی کی اپنے دوستوں کے ساتھSecularرفاقت‘قرۃ العین حیدر کا پروین شاکر کی تہنیتی نظم پر برہمی کا اظہار‘ معین احسن جذبیؔ کے کم کہنے اور کم لکھنے کی مجذوبیت‘خوش کردار حالیؔ کی سادگی و گیرائی کا اعتراف ‘سجاد ظہیر کا حالتِ زنداں میں رضیہ سجاد ظہیر (شریک حیات) سے ملنے کی تڑپ‘ علامہ ناوک ؔحمزہ پور ی کی رباعیات پر مقدمہ لکھتے ہوئے اصلاحاً و تنقیداً ناوک اندازیاں اور حضرت ناوک ؔ حمزہ پوری کا ان کی تنقید اور تبصرے پر اقرار و انکار‘اور مدیر نقوش طفیل ہوشیار پوری کے طفیل سے پھلتی پھولتی اور پوری ہوتی ہوئی شعراء و ادباء کی روزانہ کی ضروریات‘ ان سب کا ذکر ان کے خطوط اور مراسلوں کے تانے بانے اپنے ذاتی احساسات اور تاثرات کا دلچسپ خاکہ کھینچا ہے۔ان کے تنقیدی مضامین میں محض تنقید کی کاٹ ہی نہیں بلکہ دانشورانہ اور مدبّرانہ رائے اور مشورات کا گنجینہ بھی ہوتا ہے۔
رؤف خیر نے آج کےGloblisedدور میں مکتوبات کی گھٹتی ہوئی اہمیت پر تاسف کا اظہار کرتے ہوئے یہ باور کرایا ہے کہ مراسلوں اور خط و کتابت کی کس قدر اہمیت ہے۔ ان کے اس اعتراف میں دو رائے نہیں کہ’’ آج بھی اگر شیکسپئر ‘اقباؔل‘ غالبؔ‘ کا کوئی خط کہیں سے بھی دستیاب ہو جائے تو ہزاروں ڈالر میں اُسے تولا جا سکتا ہے ‘حالانکہ کئی رسالوں نے بھی ادیبوں اور شاعروں کے خطوط پر مبنی نمبر نکالے اور ان کی شخصیت اور روشن ذہنیت سے روشناس کروایا لیکن رؤف خیر نے اپنی تالیف میں مشاہیر کے ظاہری اور باطنی کوائف کا خاکہ جس طرح کھینچا ہے وہ خطوط نگاری کی دنیا میں ایک اچُھوتا قدم ہے۔
رؤف خیر نے اپنی اس تالیف میں مشاہیر کے خطوط کے حوالے سے مکتوب نگار کے پوشیدہ حالاتِ زندگی کو بھی منکشف کیا ہے اور ان کی خامیوں اور
خوبیوں کو اپنی بے لاگ گوئی پر پرکھا اور جانچا ہے ۔ان کا یہ کام تنقید کی دنیا میں اضافے کی حیثیت رکھتا ہے۔ انھوں نے دعوے کے طور پر اپنی اس تالیف کو جو دو شعروں کے ذریعہ معنون کیا ہے وہ بجا اور بر حق ہے:
ہمارا کوئی نعم البدل نہیں ہوگا٭ہماری خالی جگہ کوئی بھی نہیں بھرتا
معاف کرنا یہ خاکہ کہاں اُبھرپاتا٭اگر یہ دستِ ہنر رنگ ہی نہیں بھرتا
0 Comments