نامِ کتاب۔حروف زرّیں (شعری مجموعہ)

نامِ کتاب۔حروف زرّیں       (شعری مجموعہ)

شاعرہ۔ڈاکٹر تبسم فرحانہ    مبصر۔عبدالمتین جامیؔ

کہنہ مشق شاعر استاد الاساتذہ جناب فرحت قادری مرحوم کی دختر نیک اختر ڈاکٹر تبسم فرحانہ کی گھٹی میں شاعری پڑی ہوئی تھی ۔وہ بچپن سے ہی شعر کو موزوں کرنے کی کوشش کرتی رہی تھیں اور فن شاعری کی طرف ان کے رجحان کو دیکھتے ہوئے خود ان کے مرحوم والد محترم کی جانب سے بھی ہمت افزائی ہوتی رہی۔   ان کی پہلی تخلیق ’’پالیکا سماچار‘‘ دہلی میں ۲۰۰۸ء میں شائع ہوئی تھی۔ 
’’حروفِ زرّیں‘‘ موصوفہ کا پہلا مجموعہ کلام ہے جس کا مطالعہ ہمیں ان کے اندازِ فکر اور شعر سازی کے فن سے متعارف کراتا ہے‘ جن کا ہر شعر نہیں تو بیشتر اشعار اپنے اندر بلا کی جاذبیت کے ساتھ تاثر پذیری بھی رکھتے ہیں۔
موصوفہ کی شاعری میں احساس و شعور اور علم و حکمت کے جو دلکش نقوش مرتب ہویے ہیںان سے ان کی صلابتِ فکری اور عمیق تجربارت ومشاہدات کا پتہ چلتا ہے۔ان کا شعری سفر گو زیادہ طویل نہیں ہے مگر اس کے باوجود ان کا ویژن بالکل صاف و شفاف ہے ۔اس سے پتہ چلتا ہے کہ ان کے لائق و فائق اورمشہور و معروف والد گرامی نے ان کی جانب خاص توجہ مبذول کی ہوگی۔ موصوفہ کی شاعری میں جو فنکارانہ چابکدستی ‘الفاظ کے برجستہ استعمال اورشگفتگی وشیفتگی پائی جاتی ہے‘یقنا 
ان کے والدِ محترم کی رہینِ منت ہے۔اس سلسلے میں فرحانہ صاحبہ نے کھلے دل سے اعتراف بھی کیا ہے۔کہتی ہیں: ’’میری ذہنی تربیت اور ادبی ذوق کی جلا انہیں یعنی (والد گرامی ) کے زیر نگرانی پروان چڑھی‘‘۔
بہر کیف راقم نے فرحانہ صاحبہ کے مجموعے کا بڑی ذوق وشوق سے مطالعہ کیا۔بیشتر اشعار نے اس قدرمتاثر کیا کہ ان کی تعریف نہ کرنا ادبی غیر دیانت داری ہوگی۔انھوں نے مختلف النوع خیالات کو بڑی چابکدستی سے شعری جامہ عطا کیا ہے۔چند موضوعاتی شعر ملاحظہ فرمائیں:
مایوسی:۔ بچھی ہوئی ہے ہر اک دل میں نفرتوں کی بساط
وفا کے گیت تبسم کہاں کہاں لکھے
وفاشعاری:۔ میں بنتِ حوّاہوں ابن آدم سے چولی دامن کا ہے تعلق
ازل سے میری ہتھیلیوں پر وفا کی مہندی لگی ہوئی ہے
فنکار کے حالات:۔ سپاس نامے کسی کو بتا نہیں سکتے
برا جو حال ہے فن کار کے گھرانے کا
اختصار پسندی:۔ کہاں ہے وقت کے پڑھئے طویل افسانہ
اب ایک شعر ہی ہرداستاں پہ حاوی ہے
نیکی کی ترغیب:۔ تمھاری کاوشوںسے ایک دن کونپل بھی پھوٹے گی
رکھو گے رشتۂ الفت اگر بنجر زمینوں سے
خود آگہی:۔ ریگ پر ہوں میں دوب کی صورت
اس حوالے سے جانئے مجھ کو
اسی طرح سے فرحانہ صاحبہ نے اپنی شاعری میں مختلف خیالات کو بحسن و خوبی سمونے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ تبصرہ کے لئے مختص قلیل سی جگہ میں ساری باتوں کا سمونا ممکن نہیں ہے۔ تا ہم مزید دو شعر پیش ہیں:
غرور ٹوٹ کے یک لخت پاش پاش ہوا۔بہت بلندیٔ پرواز سے گرا ہے کوئی
یہ شکست وریخت یہ جدت پسندی کس لئے۔شاعری میں اب تغزل بھی خدارا چاہئے
واقعی انھوں نے اپنی غزلوں میں تغزل کے علاوہ جدید حسیت کو بھی روایتی اورجدید اسلوب میں ڈھالنے کی کوشش کی ہے۔ ان کی شاعری میں قارئین کے لئے ایک نئی چاشنی نظر آئے گی۔ نیا ذائقہ لیے ہویے یہ مجموعہ یقینا اہل ادب کی توجہ مبذول کرے گا۔اس کی قیمت ہے ۱۵۰؍روپے اور شاعرہ کا پتہ ہے:روڈ نمبر۔۷‘نیو کریم گنج۔گیا۔۸۲۳۰۰۱(بہار)

Post a Comment

0 Comments