نامِ کتاب۔چھاؤں مرے حصے کی
(شعری مجموعہ)
شاعر۔ مقبول منظر
مبصر۔سعید رحمانی
اردو شاعری میں غزل ہی وہ صنف ہے جو اپنی غنائیت اور تازہ کاری کے باعث ہر دور میں اپنا جادو جگاتی رہی ہے۔آج بھی اس کا سحر قائم ہے بلکہ اس کی مقبولیت میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ میرؔ و غالبؔ سے ہوتے ہوئے موجودہ دور کے شعرا تک اس طویل سفر کے درمیان غزل میں بہت سے انقلابات بھی آئے۔ وارداتِ حسن و عشق سے ہوتے ہوئے یہ نئے عہد کی ترجمانی کرنے لگی ہے۔
بہر کیف اس وقت مقبول منظر کا مجموعہ’’چھاؤں مِرے حصے کی‘‘ پیش نظر ہے‘ اس میں شامل غزلوں سے متعلق کچھ کہنے سے قبل بتادوں کہ موصوف گزشتہ صدی کی آٹھویں دہائی سے شعری منظر نامہ میں دادِ سخن دیتے آرہے ہیں۔ اردو ایم اے فرسٹ کلاس سے پاس کیا‘پھر ڈاکٹریٹ کی ڈگری بھی حاصل کی۔ان کے مقالے کا موضوع تھا’’اردو زبان و ادب کے فروغ میں پلاموں کا حصہ‘‘اس وقت گوپی ناتھ سنگھ مہیلا کالج گڑھوا میں شعبۂ اردو کے عہدے پر فائزہیں۔شاعری میں حضرت نادم بلخی کے سامنے زانوئے ادب تہہ کیا۔۱۹۹۳ء میں’’انوارِ معرفت‘‘(نعتیہ مجموعہ)اس کے بعد ’’ضیائے افکار‘‘(غزلیہ)شائع ہو چکے ہیں۔اور اب طویل عرصہ بعد یہ تیسرا مجموعہ منظرِ عام پر آیا ہے۔تین دہائیوں پر بسیط اس شعری سفر کے دوران ان کی شاعری کا ننھا سا پودابرگ و بار لا کر اب شجرِ سایہ دار بن چکا ہے۔
یہ خالص غزلوں کا مجموعہ ہے جس کی ابتدا حسبِ روایت حمد و نعت سے
ہوئی ہے۔غزلوں کے مطالعہ سے جو خاص بات نظر آئی وہ مقبول منظر کا استعاراتی انداز ِ بیان ہے جس کی بنا پر ان کی غزلوں میں تہہ داری بھی ہے اور معنوی جہات کی کشاد گی کا بھی احساس ہوتا ہے۔استعارہ اگر چہ شاعری کے لئے لازمی عنصر نہیں کیونکہ سیدھے سادے الفاظ میں بھی شعر کہا جا سکتا ہے لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ علائم و استعارات سے شعر کے حسن میں اضافہ ہوتا ہے اور معنوی گہرائی بھی پیدا ہوتی ہے ۔اس بات کے پیش نظر مقبول منظر کی شاعری پر نظرڈ ٖالتے ہیں تو ان کی غزلوں میں ایک استعاراتی فضا ہموار ہوتی نظر آتی ہے۔ راحت کی چھت‘فساد کی آندھی‘ دہشت کی دھوپ‘پیار کی دھوپ‘ نفاق کا اونچا مکان‘ دستِ رشوت‘وکالت کا بدن جیسی تراکیب سے انھوں نے عہد حاضر کی نا ہمواریوں کو بڑی کامیابی سے شعری لباس عطا کیا ہے۔چند شعر ملاحظہ ہوں:
عدل نے ساتھ دیاظلم کا جب بھی بڑھ کر۔دستِ رشوت نے وکالت کا بدن نوچ لیا
راحت کی چھت کو لے اُڑی آندھی فساد کی۔دہشت کی دھوپ بھی بنی اب سائبان ہے
گھر کو مرے کہاں سے ملے اب دھوپ پیار کی۔ہر سمت جب نفاق کا اونچا مکان ہے
ان اشعار کی تہہ داری اور معنوی گہرائی سے انکار نہیں کیا جا سکتا ۔انھوں نے تلمیحات کا بر ملا استعمال کر کے بڑی خوبصورتی سے اپنے دینی و ملی جذبات کا اظہارکیا ہے۔صرف دو شعر پیش ہیںـ:
ضروری ہے حسینی لشکروں کی۔یزیدی فوج پھر لائی گئی ہے
پیاس کی شدت لئے جب ہم گئے سوئے فرات
بڑھ گئے کفار کی نیزہ زنی کے حوصلے
مختصر یہ کہ موصوف کی شاعری کا کینوس بے حد وسیع ہے جس میں انفس و آفاق کے سبھی پہلو دیکھے جا سکتے ہیں۔ اس مختصر سے تبصرہ میں سب کا احاطہ ممکن نہیں ۔آپ مجموعہ پڑھ کر خود ہی لطف اندوز ہوں۔یہ مجموعہ یقینا اہل ادب توجہ کا مرکز بنے گا۔یہ مجموعہ ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس دہلی سے شائع ہوا ہے۔قیمت ۲۲۰؍ روپے اور رابطہ:مقبول منظر ‘مسلم نگر۔ڈالٹن گنج پلاموں 822101 )جھاڑ کھند(
0 Comments