گو شۂ احباب

 گو شۂ احباب

   (مراسلہ نگار سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں)

٭منیر سیفی ۔پٹنہ ،بہار


ادبی محاذ (اپریل تا جون) میں ’محاذِ اول ‘ کے تحت قاضی صاحب نے تعمیری گفتگو چھیڑی ہے۔دانشور طبقہ کو اس ضمن میں سر گرم ہونے کی ضرورت ہے۔ عبد المتین کا’محاذِثانی‘بھی جامع ہے۔
چونچ کے قطعات کے کئی مصرعے شاید کمپوزنگ کی نذر ہو گئے ہیں۔ ’’گوشۂ نفیس دسنوی‘‘بہت خوب ہے۔ چند مضامین اور آجائیں تو کتابی شکل دی جا سکتی ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر عشرت آرا سلطانہ نے’’بہار میں اردو افسانہ نگاری‘‘پر سیر حاصل اور مدلل گفتگو کی ہے جو انہی کا حصہ ہے۔عبد المتین جامیؔ کے تبصرے متوازن ہیں ۔ رمیشؔ تنہا نے اچھوتے قافیہ کے ساتھ کیا خوب گرہ لگائی ہے   ؎
گو کہ میں بیدار بھی ہوں خواب آسائی بھی ہے
انجمن میں ہوں مگر احساس تنہائی بھی ہے

٭فیضی سمبلپوری،سمبل پور

۱۶؍اگست کو سہہ ماہی ادبی محاذ کا تازہ شمارہ ملا ،شکریہ۔صفحہ ۱۲؍ میں میری تقریظ ’’عظیم الدین کا شعری سفر‘‘ہے۔جس کے اختتام پر میں نے مشورتاًً چند اشعار لکھے تھے۔ مگر پہلے ہی شعر میں ڈی ٹی پی کی خامی ہے۔ شعر اس طرح ہونا چاہئے   ؎ 
خونِ جگر سے پل کے نکھرتی ہے شاعری۔طرزِ بیاں سے بنتی سنورتی ہے شاعری
بننا سنورنا محاورہ ہے بمعنی بناؤ سنگار کرنا ‘زیبائش و آرائش کرنا۔ مگر دوسرے مصرعے میں سنورتی کی جگہ نکھرتی شائع ہوا ہے۔جب کہ مصرعِ اولیٰ میں نکھرتی قافیہ ہے۔ دوسرے مصرعے میں ڈی ٹی پی کی غلطی ہے ۔صفحہ ۴۵؍ پر میری ایک غزل ہے شکریہ۔طرحی مشاعرے کے تحت صفحہ ۶۰؍ پر میری طرحی غزل ہے جس میں ابتدا کی جگہ انتہا قافیہ ہو گیا ہے۔
عزیزم عظیم الدین عظیمؔ کے دوسرے شعری مجموعہ ’’حوصلوں کا سورج ‘‘ پر اردو ادب کے ایک درجن سربر آوردہ اہلِ قلم حضرات کے تقریظات(Panegyrics)
تجزیات و تبصرات شامل اشاعت ہیں۔سبھی نے کلام کی خوب خوب تعریف کی ہے اور اس کے ساتھ عظیم ؔصاحب کو مشورہ بھی دیا ہے کہ زبان دانی پر عبور حاصل کریں۔فنّی پہلوؤں پر غور و خوض کریں ‘اساتذہ کے کلام کا مطالعہ بھی کریں۔ خصوصاً زود گوئی و بسیار گوئی سے بچیں۔ مولانا سید عبد المتین کسی زمانے میںچندر شیکھر بہرا ضلع اسکول سمبل پور میں مدرس رہ چکے ہیں۔موصوف کا مقام پیدائش سونگڑا ہے۔ فی الحال بھوبنیشورمیں سکونت پذیر ہیں۔
سید نفیس ؔدسنوی کے شعری مجموعہ پر منظوم تاثرات قابل تعریف ہیں۔ ایم نصر اللہ کی نظم ’’لفظ لفظ آئینہ‘‘واقعی دل پذیر ہے۔ مگر موصوف نے آٹھویں شعر میں رہ گزر/راہ گزار کے معنی میں رہ گزار سپرد قلم فرمایا ہے۔ملاحظہ فرمائیں طاعت گزار ‘اطاعت گزار‘خدمت گزار‘باج گزار‘خراج گزار وغیرہ اسمائے فاعلی ہیں۔جب کہ رہ گزار‘گزرگاہ وغیرہ 




اسمائے ظرف مکانی ہیں۔
جناب عبد المتین جامیؔ نے رباعی کے وزن پر گجرے خوب لکھے ہیں۔ شعرائے کرام کے کلام بھی بہت خوب ہیں۔ جناب علیم صبا نویدی نے اپنے وطن مالوف چینئی کی دل پذیر انداز میں تعریف کی ہے اور اسے رونق ہندوستان قرار دیا ہے۔نثری تخلیقات بھی قابل مطالعہ ہیں۔
رونق جمال کے افسانچے یا منی افسانے’’بیٹی بچاؤ‘بیٹی پڑھاؤ‘‘ کی مہم کی خامیوں نیز بیٹیوں کی عصمت اورزندگی کے تحفظ کے باب میںحکومت کی ناکامی کو بے نقاب کرتے ہیں۔علاوہ ازیں ماؤں کی دماغی حالت اور بے بسی کو اُجاگر کرتے ہیں۔ادباء و شعراء کے شاہکار تخلیقات اور سعید رحمانی صاحب کے حسن انتخاب نے ’’ادبی محاذ‘‘ کا معیار بلند کر دیا ہے۔

٭ شارق عدیل(ایٹہ‘یوپی)

اس بات کا ہمیشہ افسوس رہتا ہے کہ اب آپ سے مکتوب کے ذریعہ بھی گفتگو نہیں ہو پاتی ہے۔ لیکن اردو زبان کے بیشتر معتبر رسائل و جرائدمیں آپ کی نظم و نثر سے ملاقات ہو ہی جاتی ہے تو یہ سوچ کر خوش ہوجاتا ہوں کہ آپ عمر کے آخری محاذ پر بھی تخلیقی توانائیوں کے ساتھ ڈٹے ہوئے ہیں اور’’ طرحی مشاعرے‘‘کے لئے بھی غزلیں پابندی کے ساتھ شائع ہو رہی ہیں۔یہ حوصلہ‘ یہ جوش‘ یہ تخلیقی جنون مبارک ہو۔ اس بار ’’ادبی محاذ ‘‘ کاتازہ شمارہ ‘ادبی محاذ کے مدیر سید نفیسؔ دسنوی کے گوشے کی بہار کے ساتھ منظر عام پر آیا ہے۔ اور اپنے مضمون نگاروں کے پھولوں سے خیالات کی خوشبوؤں سے مہک رہا ہے۔تاثراتی حصے میں بھی اردو دنیا کے اہم اور معتبر قلم کاروں کی آراء کو پڑھا جا سکتا ہے‘ جو سید نفیسؔ دسنوی کی شاعری کے مداح ہیں۔ اور یوں بھی شاعر کے شعری وجود کا اعتراف اردو ادب کے لافانی فن کار پروفیسر کرامت علی کرامتؔ صاحب بھی کرتے ہیں تو اس کی قد آوری سے کون انکار کر سکتا ہے۔
سعید رحمانی صاحب نے بھی موصوف کو ادبی محاذ کا مدیر بنا کراپنی محبتوں کا اظہار کر دیا ہے۔جسے نظر انداز 
کرنا ممکن نہیںہے۔بقیہ تمام چیزیں اپنی 

اپنی جگہ ٹھکانے سے ہیں بس غزلیات ہی حبس کا شکار نظر آتی ہیں۔
میری تازہ ترین شعری کتاب’’کرب زاد‘‘شائع ہو گئی ہے ‘آنے پر روانہ کردوں گا۔اس پر ایک ایسے بھر پور تبصرے کی درخواست ہے جس میں کتاب کے تعارف کے ساتھ شعری محاسن و معائب پر بھی تفصیلی روشنی ڈالی جائے ۔مگر دیکھنے میں آرہا ہے کہ آج کا مبصر کتاب سے جلد از جلد پیچھاچھڑانے کی کوشش میں تبصرے کا حق ادا نہیں کرپا رہا ہے۔
ایک غزل اور ایک نعت حاضر ہے۔ اگر یہ دونوں چیزیں آپ کی پسند تک سفر کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو حوصلہ بڑھا دیجئے گا۔  
٭اظہر نیرؔ(دربھنگہ)
ادبی محاذ گوشۂ عظیم الدین عظیم کی شکل میں موصول ہوا۔ شکرگزار ہوں۔ موصوف کی شاعری پرجتنے مضامین شامل ہیں ان کے مطالعہ سے ان کی شاعری کی تفہیم میں مدد ملتی ہے۔گوشے کا سلسلہ بھی خوب ہے۔ہر شمارے میں کسی نہ کسی شاعر یا ادیب سے متعارف ہونے کا موقع ملتا ہے۔اس بے حسی کے دور میں آپ کی جستجو‘جدوجہد ور کوششیں ‘مالی و وقتی قربانیاں لائقِ ستائش ہیں۔
سراج فاروقی کا افسانہ’’انصاف‘‘ معیاری‘دلچسپ اور سبق آموز ہے۔ اقبال سلیم کا افسانہ’’پچھتاوا‘‘ مختصر مگر بہت خوب ہے۔شعری حصہ حسبِ دستور معیاری ہے۔شعرا حضرات نے اپنے زاویۂ فکر کی عکاسی خوبصورتی سے کی ہے۔  
٭شارق عدیل(ایٹہ یو پی)
ادبی محاذ کا تازہ ترین شمارہ مل گیا ہے جس کے لئے آپ کا شکرگزار ہوں۔ماشاء اللہ رسالہ اب بہترین ہوگیا ہے اورہر طرح کی معیاری تخلیقات بھی آپ کو موصول ہورہی ہیں۔ادب بیزار اس دور میں آپ کو اور سید نفیس دسنوی کو مبارک ہو۔میری کتاب کرب زاد چھپ گئی ہے ۔آتے ہی روانہ کروں گا۔  ٭ 

Post a Comment

0 Comments