گو شۂ احباب

  گو شۂ احباب
      (مراسلہ نگار سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں)

٭ڈاکٹر لطیف سبحانی (امراوتی



)2016 کے تینوں شمارے ایک ساتھ دیکھا۔کیونکہ طبیعت مسلسل خراب چل رہی تھی جس کی وجہ سے ذہنی و جسمانی دونوں اعتبار سے کوئی کام کرنے کے لائق نہ رہا۔تھوڑا افاقہ ہوا تو ادبی محاذ دیکھا۔گوشہ ڈاکٹر حبیب راحت حباب‘گوشہ سید شکیل دسنوی‘گوشہ کبیر وارثی تمام گوشے معیاری ہیں‘مضامین بھی جامع ہیں۔اسے دیکھنے سے آپ کی علمی وادبی بصیرت و بصارت کا علم ہو جاتا ہے ۔گوشے کی وجہ سے فن کار کی شخصیت ‘فن اور اس کی علمی وادبی خدمات کا اندازہ ہو جاتا ہے ۔کئی رسالوں کے کے گوشے منظر عام پر آتے ہیں۔ان میں سے بعض بالکل پست ‘ناکارہ اور غیرمعیاری ہیں۔ مدیر کو ادبی خدمات سے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔پس گوشوں کی شکل میں انھیں پندرہ بیس ہزار روپے وصول ہوجاتے ہیں کافی ہے۔ صاحبِ گوشہ کوسو دو سو کاپیاں ارسال کردی جاتی ہیں ۔رسالہ کے خریدار صرف ۲۵؍ ہوتے ہیں۔ فن کا ر اپنی شہرت ناموری اور عزت کی خاطر سب کچھ برداشت کر لیتا ہے۔ در اصل اکیسویں صدی میں اردو کا بُرا حال ہے۔بیسویں صدی یا انیسویں صدی ہوتی تو اس طرح کے صحافیوں کا کوئی گزر نہ ہوتا۔انھیں خوکشی کرنی پڑتی۔در اصل اس طرح کے نا معقول ‘مفاد پرست اور خود غرض صحافیوں کی وجہ سے اردو ادب کو شدید نقصان پہنچا ہے ۔بعض فن کار خود ہی اپنی ادبی خدمات پر مضمون لکھ کر کسی دوسرے کے نام پر شائع کروالیتے ہیں۔ یہ ایک بہت بڑا المیہ ہے جو اردو ادب میں رائج ہے۔ 



٭ضیا جعفر بنگلور(کرناٹک)



اکتوبر/دسمبر کا شمارہ پڑھا اور پڑھتا رہا ۔قاضی مشتاق احمد صاحب کا طنزیہ ’’کیا یہی راج دھرم ہے‘‘کافی فکر انگیز رہا اور کئی واقعات کی صحیح تصویر کشی کی گئی ہے۔گوشہ’’شکیل دسنوی‘‘میں قاضی رؤف انجم صاحب‘ڈاکٹر آفاق عالم صدیقی صاحب‘منیر سیفی صاحب‘شارق عدیل صاحب‘ابرار نغمی صاحب‘سید نفیس دسنوی صاحب‘مدہوش بلگرامی صاحب‘نصر اللہ نصر صاحب‘احسن امام صدیقی صاحب‘مجیب الرحمٰن وفاؔ صاحب اور ارشد قمر جیسی قد آور شخصیتوں نے اُن کے فن کا خوب جائزہ لیا ہے۔
علیم صبا نویدی صاحب‘منیر سیفی صاحب اور سعید رحمانی صاحب نے منظوم خراج عقیدت کا نذرانے پیش کئے ہیں اور ساتھ ہی سید شکیل دسنوی کی غیر مطبوعہ تخلیقات بھی شامل کی گئی ہے۔جس سے ’’’گوشہ سید شکیل دسنوی ‘‘ یاد گار بن گیا ہے۔
صبیحہ جہاں نے رؤف خوشتر کی’ ’کائنات طنزو مزاح‘‘کے اندازِتحریر اور خوش رنگ تحریر کی بھرپور عکاسی کی ہے۔ ’’میرا تحریر کردہ افسانہ‘‘اور ’’منظر بدل گیا‘‘ کو قارئین نے کافی سراہا ‘میں فرداً فرداً سب کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں ۔پر وفیسر مناظر عاشق صاحب کا افسانہ ’’لہو لہان وقت‘‘میں میری کہانی نظر آئی۔ایسا ہی واقعہ میرے ساتھ بھی گزر چکا ہے ۔افسانہ پڑھ کر میری آنکھیں نم ہو گئیں ۔حسن ساہو صاحب کی ’’مختصر مختصر کہانیاں‘‘۔ایس ۔کیو۔ عالم ‘طلعت صاحب اور انجینئر سید فرید دسنوی صاحب کی کہانیاں بھی طنز سے بھر پور ہیں۔
غزل کا حصہ حسب ِمعمول اس بار بھی بھاری ہے۔غزلیں اچھی رہیں اور دوسرے مضامین بھی دلچسپ رہے۔قارئین کے خطوط کافی پسند آئے۔
قدیر احمد قدیرؔ(ہلکوٹی‘کرناٹک)پچھلے شمارے میں میری غزل اور طرحی غزل کی اشاعت کے لئے صمیم قلب سے ممنون ہوں۔گوشہ مرحوم شکیل دسنوی نہایت شاندار ہے۔انشاء اللہ الگ سے تاثرات روانہ کروں گا۔آپ کو اس قدر خوبصورت گوشہ کی اشاعت پر پُرخلوص مبارک باد۔


٭اوج ؔاکبر پوری ۔رہتاس(بہار)


عرصہ کے بعد اکتوبر تا دسمبر ۲۰۱۶ء کا شمارہ باصرہ نواز ہوا۔گوشہ حضرت شکیل دسنوی نہایت دیدہ زیب گیٹ اپ کے ساتھ جس پر محترم شکیل صاحب کی بولتی تصویر دیکھ کر انھیں دیکھنے کو طبیعت مچل گئی۔ لیکن اب وہ ملنے والے نہیں۔لیکن اپنی تخلیقات میں زندہ ہیں۔ادبی محاذ کو بامِ عروج بخشنے والی شخصیت آسودۂ خاک ہے۔میں بھی انھیں دل کی گہرائی کے ساتھ خراج عقیدت پیش کرتا ہوں۔اس ماہ کے مشمولات میں نثری و شعری تخلیقات نہایت معیاری اور لائق مطالعہ ہیں۔

٭ڈاکٹر منظر عاشق ہرگانوی :

تازہ شمارہ مل گیا،شکریہ۔نفیس صاحب رسالے کو اپنی نفاست اور سنجیدہ شخصیت کی طرح بہتر اور معیاری بنانے میں لگے ہوئے ہیں۔ قلمکاروں کا بھر پور تعاون آپ کو مل رہا ہے۔اڑیسہ کی ادبی تاریخ میں جو روشن باب آپ قائم کرچکے ہیں اس کی مثال نہ قبل ملتی ہے اور نہ آئندہ ملے گی کیونکہ آنے والا وقت ایسا سازگار نہیں ہو گا۔بڑی سوجھ بوجھ سے آپ دونوں اسے گرفت میں لئے ہوئے ہیں۔
٭مرغوب اثر ؔفاطمی (گیا):


سہ ماہی ’’ادبی محاذ‘‘کا اکتوبر۔دسمبر16کاشمارہ نظر نواز ہوا جو سید شکیل دسنوی کی حیات و ادبی خدمات کا احاطہ کرتے ہوئے گوشہ کی شکل میں شائع ہوا ہے ۔سرِ ورق پر ممدوح کی شاندار تصویر دیکھ کر جی خوش ہو گیا ۔اسم با مسمّیٰ ۔مضامین عمدہ ہیں جن کی قرأت سے شکیل دسنوی کی مکمل شخصیت و ان کی ادبی جولانیٔ طبع کا اندازہ ہو تا ہے۔انھوں نے ہر صنف ِسخن میں اپنے کمالات دکھلائے ہیں جو ان کی ہمہ جہت تخلیقیت کے غماز ہیں۔منظوم خراج عقیدت کے حوالے سے محترم علیم صبانویدی ‘سعید رحمانی و منیر سیفی نے اپنے اپنے ہنر کا مظاہرہ کیا ہے اور خوب کیا ہے۔کل ملا کر شمارہ عمدہ ہے جس سے آپ کی مدیرانہ صلاحیتیں عیاں ہوتی ہیں۔

Post a Comment

0 Comments